بھٹکل:11/اگست (ایس اؤنیوز)ساحلی پٹی پر واقع دکشن کنڑا اور اُڈپی اضلاع کی طرح اترکنڑا ضلع میں بھی زوننگ رگیولیشن ماسٹر پلان جاری کرنےکا مطالبہ لے کر مجلس اصلاح وتنظیم بھٹکل کے عہدیداران اور ذمہ داران نے حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے ریاستی وزیر یوٹی قادر کو میمورنڈم پیش کیا۔
میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ ساحلی پٹی کے دکشن کنڑا اور اُڈپی اضلاع میں زوننگ رگیولیشن ماسٹر پلان کے ذریعے وہاں کے مکینوں کو نئے مکانات کی تعمیر کے لئے بہترین سہولت مہیا کی گئی ہے۔ لیکن تعجب کی بات ہے کہ پڑوس کے ساحلی ضلع اترکنڑا میں مکانات کی تعمیر ، مرمت اور رجسٹریشن کے لئے بہت سارے کٹھن قانون نافذ کئے گئے ہیں۔ جس سے ضلع میں نئے مکانات کی تعمیر ناممکن ہونے سے ضلع کی ترقی رک سی گئی ہے۔میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ اس سے قبل ’’ٹکڑا زمین ‘‘(تُنڈ بھومی )نامی قانون جاری تھا۔
میمورنڈم میں کہاگیا ہے کہ اترکنڑا ضلع میں صرف 18فی صد زمین ذاتی ملکیت ہے بقیہ پوری زمین فاریسٹ اور ہاڑی کی ہے، جتنی زمین جو کچھ میسر ہے وہ بھی قومی شاہراہ اور اس کی توسیع ، ریاستی شاہراہ، کونکن ریلوے اور ساحل پر سی آر زیڈ ، شہری سطح پر آثار قدیمہ کا قانون ، ایسے کئی سارے قوانین کی وجہ سے عوام کو مکانات کی تعمیر کے لئے کافی مشکلات درپیش ہیں۔ تنظیم، حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ دکشن کنڑا اور اُڈپی ضلع میں جاری زوننگ رگیولیشن ماسٹر پلان قانون کو ساحلی ضلع اترکنڑامیں بھی جاری کرتے ہوئے عوام کو راحت دیں۔
اس موقع پر تنظیم کے ذمہ داروں نے موصوف وزیر سے ملاقات کے دوران بھٹکل میں سردرد بنے راشن کارڈ مسئلے کو لے کر سہولیات فراہم کرنے اور نیشنل ہائی وے کی توسیع سے ہورہے کروڑوں جائیداد کے نقصانات کو بھی پیش کیا۔ اس موقع پر جنرل سکریٹری محی الدین الطاف کھروروی،نائب صدر عنایت اللہ شاہ بندری، رابطہ سوسائٹی کے جنرل سکریٹری محمد یونس قاضیا،اشفاق کے ایم وغیرہ موجود تھے۔